ہاں! میں پدماوتی ہوں! हाँ मैं पदमाँवती हूँ Padmaawati Full Story




Red Host, Asad KTP
https://www.youtube.com/channel/UC9eLFmxhd7yymU5V2138Ghw

   ہاں! میں پدماوتی ہوں!

... جی ہاں!... میں وہی پدماوتی ہوں جو ان دنوں ملک میں موضوع بحث ہے۔۔... میری کہانی بھی موضوع
 بحث ہے۔۔۔مؤرخین نے مجھے متنازعہ ہی سمجھا ہے۔۔۔اور واقعی میں حقیقی کردار سے دور ہوں۔۔۔جیسا یہ "کرنی سینا،، والے سوچ رہے ہیں اور بتارہے ہیں حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں۔ 

میں ایک دیومالائی کہانی ہوں ،بس کہانی ،افسانہ۔۔۔میرے بارے میں مشہور ہے کہ علاؤالدین خلجی میرے عشق میں مبتلا تھا اور چتوڑ گڑھ کے قلعہ پر چڑھائی کی تھی لیکن حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ میں راجپوتوں کے یہاں تقدس کی حامل ہوں۔ کہانی کے اعتبار سے میں سنہل دیپ کے راجا کی حسین بیٹی ہوں ، میں ایک طوطے کو بہت عزیز رکھتی تھی، وہ طوطا مجھے عشق ومحبت کے حسین خواب دکھاتا تھا، میرے والدنے اس طوطے کو ہلاک کرنا چاہا، لیکن وہ بچ نکلا اور ایک برہمن کے ذریعہ چتوڑ گڑھ کے راجا رتن سین کے پاس پہنچ گیا، راجا نے طوطے سے جب میرے شباب اور حسن وجمال کا تذکرہ سنا تو مجھ پر عاشق ہوگیا اور تخت وتاج چھوڑ کر میرے حصول کے لیے ’جوگی‘ کے لباس میں میرے یہاں آپہنچا اور ان کی محبت کامیاب رہی، میرے والد نے ہماری شادی کرادی اور ہم ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے۔ کافی عرصہ بعد سلطان خلجی بھی میرے حسن وجمال کی باتیں سن کر مجھے پانے کے لیے بے تاب ہوجاتا ہے اور چتوڑ گڑھ کا محاصرہ کرلیتا ہے، آٹھ سال تک کے محاصرے سے ہماری حکومت کمزور ہوجاتی ہے، ہم مشورہ کے بعد صلح کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، اورمیں خلجی کو قلعے میں داخل ہونے کی دعوت دیتی ہوں ، خلجی میری مہمان نوازی دیکھ کر مجھے بہن کے خطاب سے نوازتا ہے، اورمیری ایک جھلک دیکھنے کی فرمائش کرتا ہے، راجپوت اس پر آمادہ نہیں ہوتے ہیں لیکن بعد میں پھر حامی بھر لیتے ہیں اور خلجی کو ایک ایسی جگہ لے جایاجاتا ہے جہاں ایک ٹھہرا ہوا حوض ہوتا ہے ،وہاں میں نہیں ہوتی ہوں لیکن حوض میں میرا دھندلا سا عکس اوپر کے جھروکے سے نظر آتا ہے جس سے اس کی تشنگی نہیں بجھتی، اس کی انا کو ٹھیس پہنچ جاتی ہے اور وہ نامراد واپس چلا جاتا ہے لیکن میرے شوہر کو گرفتار کرلیتا ہے، میں اپنے شوہر کی محبت میں بے تاب ہوکر ایک ترکیب نکالتی ہوں اور خلجی کو خط بھجواتی ہوں کہ میں اس کے حرم میں آنے کو تیار ہوں ۔میرا خط پڑھ کر خلجی خوشی سے جھوم اٹھتا ہے اور میں فوجیوں کے ہمراہ اس پر حملہ کرکے اپنے شوہر کو بچا لیتی ہوں۔ لیکن اس کے بعد خلجی مجھ سے بدلا لینے کے لیے چتوڑگڑھ پر فیصلہ کن حملہ کرتا ہے اور راجپوت زعفران رنگ کی پگڑیاں اور خواتین سولہ سنگھار کرکے ’جوہر‘ کا عزم کرتی ہیں اور تمام خواتین ایک بلند مقام پر "الاؤ،، جلا کر اس میں کود پڑتی ہیں۔ جب خلجی قلعہ فتح کرکے اندر داخل ہوتا ہے تو اس کو جلی ہوئی لاشوں کے سوا کچھ نہیں ملتا ہے وہ میرے لیے ہاتھ ملتا ہی رہ جاتا ہے۔ (دیومالائی کہانی)


     ہاں! میں وہی پدماوتی ہوں جس کی عزت وناموس کی  حفاظت کے لیے آج کرنی سینا والے  میدان میں کود پڑے ہیں۔۔۔وہ کرنی سینا جسے پھولن دیوی یاد نہیں۔۔۔۔وہ کرنی سینا جسے نربھیا یاد نہیں۔۔۔۔ہاں میں وہی پدماوتی ہوں جس کے لیے آج ہندوستان جلایاجارہا ہے کبھی میں (کہانی کے اعتبار سے) خود جل گئی تھی۔۔۔المیہ تو یہ ہے کہ فلم بنانے والے بھی ہندو، ہیرو، ہیروئین ،فائنائنسر، پروڈیوسر، ہدایت کار، سنسر بورڈ سبھی ہندو ہیں لیکن اسے خلجی نے مشہور کردیا ہے۔۔۔خلجی کے کردار نے اسے ہندوؤں کو اکسا کر ہندومسلم کردیا۔ اگر کرنی سینا والے واقعی مجھ سے محبت کرتے ہیں۔۔۔میرے لیے ’’جوہر‘‘ کرسکتے ہیں تو  انہیں چاہئے کہ جو اس فلم کا فائنانسر ہے اسے جلادیں؛ ۔۔۔تاکہ اس طرح کی دیومالائی اورمسخ شدہ تاریخ پر فلمیں نہ بنائی جائیں ۔ میں ایک حقیقی کردار نہیں۔۔۔۔حقیقی کردار میں توہرروز ہندوستان میں ظلم ہوتاہے۔۔۔عورتوں کو بے آبرو کیاجاتا ہے، اگر واقعی مجھ سے محبت ہے تو ان ناریوں کی حفاظت کریں ۔۔۔جنہیں ہرجگہ بے آبروکیاجارہا ہے تب میں سمجھوں گی کہ تم نے اپنا حق ادا کیا نہیں تو پھر ایسی جھوٹی محبت سے ملک کا فائدہ نہیں ہونے والا اور نہ ہی مجھے سکون مل سکتا ہے ۔۔۔ہاں میں ایک بات اورکہناچاہوں گی کہ لوگ میری جھوٹی محبت میں ملک میں آگ لگاناچاہ رہے ہیں،ملک کی سلامتی اورامن وشانتی کوغارت کرنے پرتلے ہوئے ہیں،جولوگ ایساکررہے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ پہلے تاریخ کاغیرجانبدارانہ مطالعہ کریں،دیومالائی اورفرضی کہانی سے اوپراٹھ کرہندوستان کی حقیقی تاریخ کوپڑھیں توانہیں پتہ چلے گاکہ فلم میں جس ’’پدماوتی‘‘ کی عزت اورغیرت کے لئے ملک کی امن وشانتی کی فضاکوبگاڑرہے ہیں درحقیقت اس فلم میں میرے کردارکونہیں بلکہ علاء الدین خلجی کے کرداراوراس کی تاریخ کومسخ کرکے حقیقت سے دوررکھ کردکھایاگیاہے۔جی ہاں !میں سچ بول رہی ہوں،اگرآپ کومیری باتوں پریقین نہیں توآپ پہلے علاء الدین خلجی کی حقیقی تاریخ کامطالعہ کریں، پھرمیرے نام پربنائی گئی فلم "پدماوتی،، کودیکھیں توآپ کوپتہ چل جائے گاکہ فلم میں جس طرح خلجی کودکھاگیاہے ،حقیقی زندگی میں اس کاخلجی سے دوردورتک کوئی واسطہ نہیں ہے۔فلم میں خلجی کوایک خونخواراورظالم وجابراورعشق وہوس کاپجاری بادشاہ دکھایاگیاہے۔جب کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ علاء الدین خلجی ایک نیک صفت اورعادل ومنصف بادشاہ تھا۔جی ہاں! ہندوستان میں خلجی ہی وہ پہلاحکمراں تھاجس نے حکومت میں مقامی یعنی ہندوستانیوں کوحصہ داری دی تھی اورانہیں اعلیٰ مناصب پرفائزکیاتھا۔
عوام کودلالوں کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے اس نے بازارمیں اشیاء کی قیمت مقررکی اوراس طرح روزمرہ کی استعمال ہونے والی تمام اشیاء پرحکومت کاکنٹرول کرکے بازارسے لوٹ کھسوٹ کوبندکیا، جس سے عوام کوبڑی سہولیات ملیں۔جی ہاں!خلجی ہی وہ پہلاحکمراں ہے جس نے زمین کی اصلاحات پرخصوصی توجہ دی اورزمینوں کی درجہ بندی کرائی۔جی ہاں!خلجی ہی وہ حکمراں ہے جس نے ہندوستان پرمنگولیوں کوکئی حملوں کوناکام کیااوراس طرح ہندوستان کومحفوظ رکھا۔میں ان لوگوں سے مخاطب ہوں جومیرے نام پرملک میں تباہی پھیلانے پرتلے ہیں،جومیری جھوٹی محبت اوراپنی جھوٹی اناوشان کوبچانے کے لئے ملک کے مختلف حصوں میں ہنگامہ برپاکرکے معصوم عوام ،بچوں اورعورتوں کواپنے ظلم کانشانہ بنارہے ہیں،وہ پلیزپہلے تاریخ کامطالعہ کریں پھرکوئی قدم اٹھائیں،اگریہی حالت جاری رہی توخواہ مخواہ کی جھوٹی شان اورمسخ شدہ تاریخ کی حفاظت کے نام پرملک ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گااورانسانیت انسان کے ہاتھوں ہی تباہ وبربادہوجائے گی اوراس سے کسی کابھی بھلانہیں ہوگا۔۔۔۔!!!

Comments