صاحب زادہ محترم کے وصال پر
حضورﷺ کی حالت
صاحب زادہ محترم حضرت ابراہیم پر جب نزع کی حالت طا ری ہوئی تو آپ ؐ تشریف لے
گئے۔ شفقت پدری جوش میں آئی ۔آپ نے حضرت ابراہیم کو گود میں اٹھا لیا۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نےعرض کیا ۔
یا رسول اللہ ؐ ایسے موقع پر
لوگ تو روتے ہیں۔ مگر آپ کی عظمت شان اور
کمال معرفت سے یہ با ت بعید ہےکہ آپ بھی روئے ۔
آنحضرتﷺ نے جواب دیا۔ عبدالرحمٰن یہ
رحمت ہے ۔جو آنسووں کی شکل میں آنکھو ں سے بہ رہی ہے۔ یعنی میری آنکھیں بے صبری کی
وجہ سے آنسو نہیں بہارہی ہے۔
جیساکہ تم
سمجھ رہے ہو۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ بچے کو اس حالت میں دیکھ کر شفقت و رحمت کا جذبہ
امنڈ رہا ہے۔ جو آنسووں کی شکل میں آنکھوں سے بہ رہا ہے۔
(بخاری و مسلم )
حضورؐ کا تعزیتی خط حضرت معاذ بن جبل ؓکے نام
دوستو ں:
کائنا ت کے سردار آقا ئے نام دار رسول اکرم ﷺ نے بھی میت کےپسماندگان
کی تعزیت تحریراًوتقریراً کی ہے۔ چنانچہ ترمذی کی حدیث
ہے ۔
حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ ان کے بیٹے کا انتقال ہو گیا تو رسول اللہﷺ
نے ان کو تعزیت نامہ لکھوایا ۔
میں اس
تعزیت نامہ کو آپکی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔
اس خط کا مفہو م درج ذیل ہے ۔
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اللہ کے رسول ؐ کی طرف
سے معاذ بن جبلؓ کے نام۔ تم پر سلامتی ہو۔
میں پہلے تم سے اللہ کی حمد بیان کرتا
ہوں۔ جسکے سوا کوئی معبود نہیں۔ حمدوثنا کے بعد دعاء کرتا ہوں کے اللہ تمہیں اجر
عظیم عطا فرمائے۔ اور صبر کی تو فیق دے ۔
اور
اللہ ہمیں اور تمہیں صبر کرنا نصیب فرمائے۔
اس لئے کے بیشک ہماری جانیں، ہمارا مال، اور ہمارے اہل و عیال سب اللہ کے خوش
گوار عطیئے اور عاریت کے طور پر سپرد کی
ہوئی امانتیں ہیں۔
اس اصول کے مطابق تمہارا بیٹا بھی تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی
امانت تھا۔ اللہ تعالیٰ نےخوشی اور عیش کے ساتھ تم کو اس سے نفع اٹھانے اور جی
بہلانے کا موقع دیا ۔
اور اب تم سے اسکو اجر عظیم کے عوض میں واپس لے لیا ہے ۔
اللہ
کی خا ص نوازش اور رحمت و ہدایت کی تمکو بشارت ہے اگر تم نے ثواب کی نیت سے صبر
کیا ۔
بس تم صبر و شکر کے ساتھ رہو ۔دیکھو تمہارا رونا دھونا تمہارے اجر کو ضائع نہ کر دے ۔
کہ فر
تمہیں پشیمانی اٹھانی پڑے۔ اور یا د رکھو
کہ رونا دھونا کسی کی میت کو لوٹا کر نہیں لاتا۔
اور نہ ہی غم و اندوہ کو دور کرتا
ہے۔ اور جو ہونے والا ہے وہ تو ہو کر ہی رہے گا ۔اور جو ہونا تھا وہ ھو چکا ۔ والسلام۔
(ترمذی ،معارف الحدیث )
﴿دونو ں معصوموں کے والدین کے لئے
بشارت﴾
محتر م والدین:
یہ دونو ں بچے آپ کے پا س اللہ کی دی ہوئی
امانتیں تھیں۔ جو اللہ نے لے لی ہیں ۔
آ پ صبر و ہمت سے کام لیجئے۔میرامالک آپ کو
اجر عظیم عطا فرمائے ۔
(۱) حضرت ابو ہریرہ ؓ سے
روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے انصارکی عورتوں
سے ارشاد فرمایا۔ تم میں سے جس کے بھی تین بچے مر جائیں اوروہ اس پر اللہ تعالی سے ثواب کی امید رکھے۔
تو یقیناً وہ جنت
میں داخل ہو گی۔ ان میں سے ایک عورت نے معلوم کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ اگر دو بچے مر
جائیں؟ تو آپ ؐ نے ارشاد فرمایا اگر دو بچے مر جائے تو بھی یہی ثواب ہے۔
( مسلم شریف)
(۲)
حضرت عبداللہ بن عمر و بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
جب اللہ تعا لی مؤمن بندے کےکسی محبو ب کو
لے لیتے ہیں ۔اور وہ اس پر صبر کرتے ہوئے ثواب کی امید رکھتا ہے ۔
اور جس
بات کا حکم دیا گیا ہے وہی کہتا ہے۔ مثلاً(اناللہ وانا الیہ راجعون ) کہتا ہے۔ تو اللہ تعالی اس کے لئے جنت سے کم بدلےپر راضی نہیں ہونگے۔
(نسائی شریف )

Comments
Post a Comment