عمر فاروق رحمہ اللہ
آپ کا نام عمر فاروق آپکے والد کا نام جناب محمد جاوید اختر صاحب ہے۔
آپکی
پیدائش ۲۴نومبر ۲۰۰۷ مطابق ۱۴ ذوالقعدہ ۱۴۲۸ھ ہفۃ کے دن نگلہ اسلام میں ہوئی ۔
آ
پ ایک دین داراور پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔
آپ کم عمری سے ہی پڑھنے
لکھنے کے شوقین تھے ۔
موصو ف کے اس شوق کو دیکھ کر آپ کے والد نے آپ کو ۲۴ مئی
۲۰۱۳ مطابق ۱۴ رجب المرجب کو اسلامک وژن اسکول میں داخل کرایا۔
موصوف ایک ذہین و
فطین طالب علم تھے۔
اپنی کلاس میں صف اول کے طلبہ میں آپ کا نام تھا۔
آ پ لکھنے
پڑھنے کا ذوق و شوق رکھتے تھے ۔
یہی وجہ ہے کہ موصو ف ہر امتحان میں اچھے اور نمایا نمبروں سے کامیا بی حا صل کرتے
تھے ۔
یہ بندہ عاجز بھی آ پکے استاذوں میں سے ایک تھا ۔
میں نے آپکو ہمیشہ تعلیم کے
میدان میں آگے آگے پایا ۔میں نے آپ کے ایک ایک استاذ سے معلوم کیا تو انہوں نے یہی
جواب دیا۔
کہ موصوف ایک ہو نہار، حسن اخلاق، حسن مزاج ،حسن سیرت اور تہذیب یا فتہ
طالب علم تھے۔
اپنے استاذوں سے اکثر و بیشتر طرح طرح کےعلمی سوالا ت کیا کرتے تھے۔
جو انکی دانش مندی کی پہچان تھی۔
استاذ کی عدم موجودگی میں کلاس اور طلبہ کے خیال رکھنے کا کام موصوف بحسن
خوبی انجا م دیتے تھے۔
دوسروں کے ساتھ ہمیشہ اچھے اخلاق سے پیش آتے ۔اپنی صحبت پا
ک و صا ف اور مہذب بچوں کے ساتھ رکھتے۔
نماز اور دعاؤں کا خاص خیا ل رکھتے ۔
الحاصل: آپ بچپن ہی سے بہت سی صفات اور کمالات کے حامل انسان تھے۔
ان اچھے اوصاف اور عمدہ ترین کمالات سے متصف آپ کی یہ پا کیزہ زندگی آپکے مالک
حقیقی کو اتنی پسند آئی کہ اس مالک دو جہاں نے آپ کے پا س اچانک اپنا قاصد بھیج
دیا۔
اور موصوف کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے پاس بلا لیا۔
آپ نے اپنی زندگی کا آخری سانس ایک مارچ
۲۰۱۷ مطابق ۲ جمادی الآخر بدھ کے دن ضلع میرٹھ کے آنند ہسپتال میں پورا کیا۔
اورہم کو داغ مفارقت دے کر اپنے محبوب حقیقی سے جا ملے ۔اللہ تعالی آپ کی
بخشش فرمائے۔
آپ کے والدین کو صبرو ہمت کی توفیق سے سر فراز فرمائے۔ اور ان کو آپ
کا نعم البدل عطا فرمائے ۔آمین ۔
صبر کرنا اہلِ ایمان کی
شان ہے
حقیقت یہ ہی کہ محمد رافع اور عمر فارق رحمہما اللہ جو اپنے والدین کے لخت جگر
اور چاند کے دو ٹکڑوں کے مانند تھے۔
ان کا اچانک
ہمارےدرمیان سے رخصت ہو جانا میرے لئے، اسکو ل کےتمام مدرسین وملازمین ،ذمہ دار ،رشتہ
دار، دوست و احبا ب اور بالخصوص انکے والدین کے لئے ایک عظیم سے عظیم تر حادثہ ہے۔
ایسا غم ہے جو ہمیشہ رلاتا رہےگا۔ ایک ایسی یا د ہے جو ہمیشہ آتی رہے گی۔
ایک ایسا طوفان ہے جسکا اثر ہمیشہ محسوس ہوتا
رہےگا۔
لیکن ان سب کے با وجود اللہ کے فیصلہ پر راضی رہنا اہل ایمان کی شان
ہے۔
اللہ تعا لی اپنے ہر فیصلہ پر غالب
ہے۔
ایسے ہی موقع پر اہل ایمان کے صبر کا امتحان ہوتا ہے۔
ویسے تو آدمی بہت باتیں کر لیتا ہے۔ اور بعد
میں کہتا ہے کہ میں نے صبر کر لیا۔ لیکن نہیں جب صدمہ پیش آئے تو اس وقت صبر کر نا
اور وقار کے ساتھ رہنا یہ اہل ایما ن کی شان ہے۔
اور میں بہت خوشی کے ساتھ یہ با ت لکھ رہا ہوں کہ اہل ایمان کی یہ شان ان
دونو ں بچوں کے والدین کی آنکھوں سے دکھائی دی ۔
آ پ نے جو صبر اور ہمت سے کام لیا
ہے وہ لائق دادوتحسین ہے۔ میں اللہ کی با
رگاہ میں دست بدعا ہوں کہ اللہ مزید صبر کی توفیق میسر فرمائے اور اس صبر پر آپ کو
عمدہ ترین بدلہ عطا فرمائے ۔
دنیا میں جتنے بھی لوگ ہیں سب جانے کے لئے ہیں ۔
رہنے
کے لئے کوئی نہیں آیا ۔
ایک دن ہمیں بھی اس دنیا کو چھوڑنا ہے۔
باقی رہنے والی ذات
تو اللہ کی ہے۔
وہی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہےگا۔
آنے والی کس سے ٹالی جائے گی
جان ٹہری جانے والی جائیگی
روح رگ رگ سے نکالی جائےگی
تجھ پہ اک دن خاک ڈالی جائے گی
ایک دن مرنا ہے آخر
موت ہے
کر لے جو کرنا ہے آخر
موت ہے
