موت کا پیغام پوری دنیا کے نام PART-14


AsadKTP, Asad Kiratpur, basi kratpur, redhost, redhost.in
AsadKTP
﴿محمد  رافع رحمہ اللہ﴾
آپ کا نام محمد رافع والد کا نام عزت ماٰب جناب ندیم اختر صا حب ہے ۔
موصوف آٹھ نومبر ۲۰۰۷؁ مطابق ۲۷ شوال ۱۴۲۸؁ھ بروز جمعرات نگلہ اسلام میں پیدا ہوئے ۔
آ پ ایک دین دار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ 

             ۲۷ مارچ  ۲۰۱۲؁ مطابق ۴ جمادی الاوّل ۱۴۳۳؁ھ کو آپ کے والدین نے آپ کا داخلہ  اسلامک وزن اسکو ل حسین پور میں کرایا ۔
موصوف ایک سمجھ دار اور انتہائی با ادب طالب علم تھے۔ اگر میں یہ کہوں توبجا نہ ہوگا کہ استاذوں کا ادب   موصوف کی طالب علمانہ زندگی میں نمایا طور پر دکھائی دیتا تھا۔
 میں نے آپ کے بارے میں آپکے والدین ،رشتہ دار ،دوستوں اور ایک ایک استاذ سے معلوم کیا۔ 
تو جو کچھ انہوں نے مجھ سے کہا وہ یہی تھا کہ آپ ایک خوش اخلاق، ساتھیوں کے حقوق اور مراتب کا لحاظ رکھنے والے ،بڑوں کے ادب کو ملحوظ رکھنے والے،  دعاؤں کا اہتمام کرنے والے اور ایک نیک سیرت انسان تھے۔میں خود جب ان کی کلاس میں پڑھانے کے لئے جاتا تھا تو وہ مجھ سے یہ کہتے رہتے تھے ۔
کہ مفتی صاحب آج کسی نبی کا واقعہ سنادو،آ ج کسی صحابی کا واقعہ سنا دو ،آج کوئی اچھا سا واقعہ سنا دو۔ جب میں کو ئی واقعہ سنانے لگتا تو وہ مجھ سے اجا زت لیکر تمام طلبہ کو خاموش کرتے اور واقعہ کے درمیان بات چیت کرنے سے دوسروں کو بھی منا کرتے۔
 مجھ سے آپ کے ایک استاذ نے بتایا کہ اگر موصوف سے کو ئی  غلطی ہو جاتی تو فوراً معافی مانگ لیتے تھے۔
 آپ کے والد صا حب نے بتایا کہ گھر پر جب کوئی مہمان آتا تو جو چیزیں انکے سامنے کھانے کے لئے رکھی جا تی تھیں موصوف اپنے ہاتھ سے اٹھاکر مہمانو ں کو کھانے کے لئے دیتے تھے۔ ۲۰۱۵ ؁ مطابق ۱۴۳۶ ؁ھ میں آپ نے اپنے والدین کے ساتھ عمرہ کیا۔
 آپ کی یہ خوبصورت زندگی گرزر رہی تھی کہ اچا نک خالق ارض و سماء کی طرف سے اپنے پاس حاضری کا بلاوا آ گیا۔ 
اور آپ اچانک ہمارے درمیان سے رخصت ہو کر۲۸فروری ۲۰۱۷؁ مطابق ۱ جمادی الآخر بروز منگل اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ اللہ آ پ کی مغفرت فرمائے اور آپکے گھر والو ں کو آپ کا نعم البد ل عطا فرمائے  ۔آمین۔
عمر فاروق رحمہ اللہ
آپ کا نام عمر فاروق آپکے والد کا نام جناب محمد جاوید اختر صاحب ہے۔
آپکی پیدائش ۲۴نومبر ۲۰۰۷؁ مطابق ۱۴ ذوالقعدہ ۱۴۲۸؁ھ ہفۃ کے دن نگلہ اسلام میں ہوئی ۔
آ پ ایک دین داراور پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔آپ کم عمری سے ہی پڑھنے لکھنے کے شوقین تھے ۔
موصو ف کے اس شوق کو دیکھ کر آپ کے والد نے آپ کو ۲۴ مئی ۲۰۱۳؁ مطابق ۱۴ رجب المرجب کو اسلامک وژن اسکول میں داخل کرایا۔ 
موصوف ایک ذہین و فطین طالب علم تھے۔ اپنی کلاس میں صف اول کے طلبہ میں آپ کا نام تھا ۔
آ پ لکھنے پڑھنے کا ذوق و شوق رکھتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ موصو ف ہر امتحان میں  اچھے اور نمایا نمبروں سے کامیا بی حا صل کرتے تھے ۔
یہ بندہ عاجز بھی آ پکے استاذوں میں سے ایک تھا ۔
میں نے آپکو ہمیشہ تعلیم کے میدان میں آگے آگے پایا ۔میں نے آپ کے ایک ایک استاذ سے معلوم کیا تو انہوں نے یہی جواب دیا۔ 
کہ موصوف ایک ہو نہار، حسن اخلاق، حسن مزاج ،حسن سیرت اور تہذیب یا فتہ طالب علم تھے۔
 اپنے استاذوں سے اکثر و بیشتر طرح طرح کےعلمی سوالا ت کیا کرتے تھے۔ 
جو انکی دانش مندی کی پہچان تھی۔ استاذ کی عدم موجودگی میں  کلاس اور طلبہ کے خیال رکھنے کا کام موصوف بحسن خوبی انجا م دیتے تھے۔
 دوسروں کے ساتھ ہمیشہ اچھے اخلاق سے پیش آتے ۔اپنی صحبت پا ک و صا ف اور مہذب بچوں کے ساتھ رکھتے۔ نماز اور دعاؤں کا خاص خیا ل رکھتے۔

        الحاصل:          آپ بچپن ہی سے بہت سی صفات اور کمالات کے حامل انسان تھے۔
 ان اچھے اوصاف اور عمدہ ترین کمالات سے متصف آپ کی یہ پا کیزہ زندگی آپکے مالک حقیقی کو اتنی پسند آئی کہ اس مالک دو جہاں نے آپ کے پا س اچانک اپنا قاصد بھیج دیا۔ 
اور موصوف کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے پاس بلا  لیا۔ آپ نے اپنی زندگی کا آخری سانس ایک مارچ ۲۰۱۷؁ مطابق ۲ جمادی الآخر بدھ کے دن ضلع میرٹھ کے آنند ہسپتال میں  پورا کیا۔
 اورہم کو داغ مفارقت دے کر  اپنے محبوب حقیقی سے جا ملے۔
اللہ تعالی آپ کی بخشش فرمائے۔آپ کے والدین کو صبرو ہمت کی توفیق سے سر فراز فرمائے۔ اور ان کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے ۔آمین۔