﴿حضور کی وفات امت کا عظیم حادثہ﴾
تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ امت کو بڑ ے بڑ ے حا دثات پیش آئے ہیں ۔
یہ
چند سطریں جو میں نے سیا ہ کی ہیں یہ بھی ایک بہت بڑے حاثہ کے بعد زیرقلم آئی ہیں ۔
جس
میں میرے دو چھوٹے اور پیارے بھائی محمد رافع اور عمر فاروق ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔
ان سب کے با وجود امت کو جو سب سے بڑا حادثہ
پیش آیا ہے وہ رسولِ اکرم حضور خاتم النبین محمد ﷺ کی وفاتِ شریفہ ہے۔
اس سے بڑھ
کر کوئی سانحہ اور اس سے بڑا حادثہ اس امت
کو پیش نہیں آیا۔
وہ اتنا بڑا سانحہ تھا کہ
حضرت عمر فاروقؓ جیسے مدبر اپنا ہوش کھو بیٹھے۔
اور تلوار لیکر کھڑے ہو گئے کہ جو
یہ کہے گا کے حضورﷺ کی وفات ہو گئی میں اسکی گردن اڑا دونگا ۔
حضور کی وفات نہیں
ہوئی ۔مگر اس وقت نبض شناس نبوت حضرت ابوبکر صدیقؓ کھڑے ہوئے اور مسجد نبوی میں
تشریف لائے۔ کہر ام مچا ہوا ہے۔
حضرت عمرؓ تقریر فرمار ہے ہیں کہ
حضور کی وفات نہیں ہوئی ۔ابوبکر صدیقؓ ممبر ِ رسول پر تشریف لائے اور حضر ت عمرؓ
کی طرف اشارہ کر کے فرمایا او قسمیں کھانے والے بیٹھ جا اور اپنی جگہ ٹہرجا۔
حضرت عمر ؓ اس وقت جوش میں تھے تو انہوں نے اس
وقت بیٹھنے سے انکار کر دیا ۔حضرت ابو بکر صدیق نے اللہ کی حمدوثنا اور اسکے آخری
رسول پر درودو سلام کے بعد فرمایا۔ اے لوگو جو محمد کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے
کہ محمد ؐ وفات پا چکے ۔
اور جو رب محمد(اللہ) کی عبادت کرتا ہے اسکو معلوم ہونا
چاہئےکہ اللہ حی وقیوم ہے ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہیگا ۔
اس پر کبھی موت نہیں۔
وما محمد الّا رسول
محمد تو ایک رسول ہے۔ آپؐ سے پہلے بہت سے رسول گزرچکے اگر آپ وفات پا جائیں یا
شہید کر دئے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤگے ؟جو ایسا کرےگا وہ اللہ کا کو ئی
نقصان نہیں کر سکتا اپنا ہی نقصان کرےگا۔ اور اللہ شکر گزار بندوں کو جزا دینے
والا ہے۔ (بخاری شریف)
حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیتیں سن
کر مچھے ایسا لگا کہ ابھی ابھی نازل ہوئی ہوں۔
اور رفتہ رفتہ انکو جب وفات رسول کا
یقین آیا تو یک دم زمین پر گر پڑے۔
اور کہا کے اللہ ابو بکر ؓ کا بھلا کر ے کہ
انہوں نے میری آنکھوں پر پڑے پردے ہٹا دئے ۔
ہم سب کے لئے بس یہی تعزیت کا سامان ہے۔
اسی سے ہمارے مغموم دلوں کو تسلی ہوتی ہے۔
اور ہمارے دلوں میں جو زخم ہے ان کے لئے
یہی مرحم ہے ۔
قاریئن کرام: صحابہ کرام بھی وفات نبوی کے سانحہ سے ایک دوسرے کو تسلی دیتے تھے ۔
تعزیت کرتے تھے۔
اور
کہتے تھے کہ اچھا کیا تمہارا غم حضورؐ کی وفات سے پڑھ کر ہے اس لئے اس سانحہ سے ہم
بھی تسلی حاصل کریں ۔

Comments
Post a Comment