موت کا پیغام پوری دنیا کے نام part-3

موت ایک کڑوی دوا ہے

asad kiratpur

موت سے ہر انسان گھبراتا ہے۔ ہر جاندار اسکو خطرناک اور بھیانک سمجھتا ہے۔ مو ت کا تلخ گھونٹ کوئی  پینا نہیں چاہتا۔ موت  کی آواز کو کوئی سننا نہیں چاہتا ۔موت کے  قریب آنے کو کوئی پسند نہیں کرتا ۔
مگر اسکے با وجود مو ت ہر کسی کے پا س آتی ہے ۔کسی کے پاس دبے پاؤں آتی ہے ۔
کسی کے پاس اعلان کرتی ہوئی آتی ہے انسان دنیاکی ہر چیز سے مقابلہ کر سکتا ہے ۔مگر موت کے آگے ہر کسی نے ہتھیار ڈالے ہیں۔ دنیا کی ہر چیز کا انکار کیا جا سکتا ہے۔
مگر موت کو ہر کسی نے تسلیم کیا ہے۔ موت ایک ایسی چیز ہے کہ آج تک اسکے پنجوں سے کوئی نہ بچ سکا ۔جو بھی اس دنیا میں آیا وہ مرنے کے لئے آیا۔ جس چیز نے بھی جنم لیا اسکو جانے کے لئے تیار رہنا پڑا۔ جو پیدا ہوا اسکو نا پید ہونے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔ 
گویا موت ایک سلسلہ ہے ۔ کوئی جا رہا ہے، کوئی آرہا ہے،  تا قیامت یہ سلسلہ یوں ہی  جاری رہےگا۔ یہ موت کسی کو نہیں چھوڑے گی۔ اس سے کو ئی نہ بچ پائےگا ۔

کیسے کیسے گھر اجاڑے موت نے           کھیل کتنوں کے بگاڑے موت نے

پیل تن کیا کیا پچھاڑے موت نے        سر و قد قبروں میں گاڑ ے موت نے

Comments