عمرفاروق مرحوم کی ممانی کا خواب
عمرفاروق رحمہ اللہ کے اس دنیا کو خیر آ باد کہنے کے بعد ایک رات آپ کی ممانی
نے خواب میں دیکھا موصوف مرحوم تشریف لائے اور ممانی کو سلام کیا۔
اسلامک وژن اسکو ل میں بچوں کو دعاؤں کااہتمام کرایا جاتا ہے ۔
وین جب چلنا
شروع ہو تی ہے تو ایک سمجھدار سا بچہ بلند آواز کے ساتھ دعا پڑھواتا ھے۔
۲۸ فروری
کو وین جب گھر کی طر ف چلی تو سفر کی دعا محمد رافع کی بہن عفاف قدسی نے پڑھ وائی ۔
جب
گاڑی جیون سرائے پار کر گئی تو اچانک محمد رافع نے عمرفاروق سے کہا کہ بھائی عمر
فاروق آج دعا صحیح نہیں پڑھی گئی ۔
آ پ
دوبارہ سے دعا پڑھوائیے۔ محمد رافع کی بہن نے کہا بھائی دعاء تو میں نے پڑھوادی ہے۔
اور صحیح پڑھوائی ہے۔
محمد رافع نے جواب دیا نہیں بہن آج دعاء صحیح نہیں پڑھی گئی۔
اسی
دوران آشا آنٹی بولی ۔
ارے بیٹا اب تو ہم
آدھے راستے آ گئے ہیں۔
محمد رافع نے کہا نہیں آنٹی آپ نہیں جانتی آج کل بہت
اکسیڈنٹ ہو رہے ہیں۔
اور ہمار ے گاؤں کے ایک صا حب عبدالشکور کاتو آج ہی اکسیڈنٹ
ہوا ہے۔
انسا ن کی زندگی کا کچھ پتا نہیں۔
سفر کی دعاپڑھنے سے انسان اللہ کی پناہ
میں آ جاتا ہے۔ اور راستے میں کوئی حادثہ
پیش آجائے یا اگر گھر کے سامنے بھی اکسیڈنٹ ہو جائے تو انسان اللہ کی پناہ اور
حفاظت میں رہتا ہے ۔
بھائی عمر فاروق آپ دعا ء پڑھوائیے ۔اس کے بعد عمر فاروق نے دوبارہ
دعا ء پڑھوائی۔
سب نے مل کر دعاء پڑھی۔
دعا پڑھنے کے بعد دونو ں بھائی پیچھے سیٹ
سے سہارا لیکر بہت ہی سکون اور اطمینان سے بیٹھ گئے۔
اس گفتگو اور دعاء کے بعد
بھنیڑا آ گیا ۔
اور پھر وہ ہوا جسکے لکھنے
سے میرا قلم عاجز ہے ۔
