موت کا پیغام پوری دنیا کے نام part-12

﴿شعیب بھائی اور درد بھری آواز﴾

asadktp, asad kiratpur



مجھے بہت ہی افسوس کے ساتھ یہ با ت لکھنی پڑ رہی ہے۔
 شعیب بھائی نے مجھ سے بتایا کہ جب ٹرک ہماری گاڑی سے ٹکراگیا اور ہم لوگ خطر نا ک طریقے سے زخمی ہو گئے۔

 تھوڑا وقت گزرنے پر جب مجھے ہوش آیا۔ تو میں کیا دیکھتا ہو ں کے میرا داہنا پیر پوری طرح سے لہولوہان ہو گیا اور پیر کا گوشت کپڑوں کے اوپر آگیا ۔
اس درد بھرے وقت میں میں نے وہاں پر کھڑے لوگوں سےکہا  بھائی مجھے بچاؤ میں مر جاؤں گا۔ بھائی مجھے یہاں سے لے چلو ۔
لوگو ں کے سامنے میں نے ہا تھ بھی جوڑے مگر ہائے افسوس میر ے خدا ایسی مخلوق پر وہاں پر ایسے سنگ دل اور پتھر دل لوگو ں کی  بھیڑ  تھی۔
 میری مدد کے لئے ان درندہ صفت انسانوں میں سے کوئی آگے نہ بڑھا اس حالت میں اور ایسے نازک ترین وقت میں میری جیب سے موبائل اور پیسے نکالنے والے کچھ سنگ دل تو آگے بڑھے مگر اس درد بھری حالت میں میرے زخموں پر مرحم رکھنے والا کوئی اللہ کا بندہ آگے نہیں بڑھا  ۔
کچھ دیر کے بعد معلوم ہوا کہ  اس بھیڑ میں سے کسی اللہ کے بندے نے ایمبو لینس کو فون کیا ہو ا ہے۔ 
اس کے آتے ہی مجھے اور دوسری طرف زخمی پڑی ہوئی آشا آنٹی کو ایمبو لینس وین میں ڈال کر کرت پور سرکاری ہسپتال لے جایا گیا۔ 
جب کہ دیگر زخمیوں کو انکے متعلقین اس سے پہلے ہی وہاں سے لے جا چکے تھے ۔
قارئین حضرات:  یہاں تک جو کچھ لکھا۔ وہ شعیب بھائی کے درد بھرے الفاظ اور میرا قلم تھا۔
 اب یہاں سے میں اپنی با ت شروع کرتا ہو ں۔ اس پر فطن دور میں عام طور پر دیکھا گیا ۔
میں نے اس طرح کے بہت سے واقعات اور حوادثات اپنی آنکھوں سے بھی دیکھے ہیں کہ اس طرح کے موقع پر ویڈیو فلم بنانے والے اور دور سے کھڑے ہو کر تماشا دیکھنے والے تو بہت جمع ہو جاتے ہیں مگر  صاحب زخم کے زخموں پر مرحم رکھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔
 مجھے تو شک ہوتا ہے ایسے لوگوں پر کہ کیا واقعی یہ لوگ انسان ہوتے ہیں یا جانور۔ 
کیا ان کے اندر روح بھی ہوتی ہے یا یہ لوگ پتھر کا جگر لئے پھرتے ہیں۔ اورمجھے سب سے زیادہ افسوس ہے
 ان خاکی وردی والوں پر کہ ایسے وقت یہ لو گ بھی اپنا فریضہ بھول جاتے ہیں ۔اور نازک وقت گزرجانے پر کہیں سے نکل آتے ہیں  ۔
میری با ت ہمیشہ یاد رکھنا یہ آپ لوگوں کا فریضہ ہے ۔آ پ لو گ چا ہے کسی بھی دھرم اور مذہب سے تعلق رکھنے والے ہوں کل قیامت کے دن آپ کو بھی اپنے پیدا کرنے والے کو منھ دکھانا ہوگا۔
 اور میں یہ بات کسی دھرم اور مذہب کا نشان لگائے بغیر کہتا ہوں کہ اگر زندگی کے کسی موڑ پر کسی بھائی یا بہن کو کسی کی مدد کی ضرورت ہو  تو اپنے آپ کو کسی کی مدد سے پیچھے مت رہنے دینا ۔
کیونکہ اگر ہم کسی کی مدد کریں گے تو کل کے دن ہم کو کسی کی مدد کی ضرورت ہوئی تو ہماری بھی مدد کی جائے گی۔ ورنہ ہم بھی ہاتھ ملتے رہ جائے نگے۔ 
اللہ پوری دنیا کے رہنے والے انسانو ں کے درمیا ن پیارو محبت پیدا فرمائے۔ اور ہمارے درمیا ن ایک دوسرے کی مدد ونصرت کو عام فرمائے۔
زنگی ایسی جیو کے دشمنو ں کو رشک ہو

موت ایسی ہو کہ اس پر دیر تک آنسو بہے

Comments