موت کا پیغام پوری دنیا کے نام part-11

۲۸  فروری ۲۰۱۷؁ مطابق ۱ جمادی الاٰخر ۱۴۳۸؁ھ منگل کا دن یا د گار بن گیا



۲۸  فروری ۲۰۱۷؁ مطابق ۱ جمادی الاٰخر ۱۴۳۸؁ھ منگل کا دن یا د گار بن گیا
شعیب بھائی تقریباً ۵ سالوں سے گاڑی ڈرائیور ہیں اور بہت اچھی طرح سے گاڑی چلانا جانتے ہیں۔ 
یہ با ت میں اس لئے لکھ رہا ہوں کیونکہ کچھ لوگو ں نے یہ افواہ اڑاھائی تھی کہ اسکول پرنسپل نے اس دن اناڑی ڈرائیور بھیجا تھا  ۔
آپ جلال آبا د کے رہنے والے ہیں۔ اور وہیں کی وین کے ڈرائیور ہیں۔
اس دن آ پ کی وین خراب تھی جسکی وجہ سے نگلہ اسلام والی وین سے آپ کو اپنی وین کے بچے بھی چھوڑنے تھے۔
 اسی وجہ سے اپ پہلے نگلہ اسلام کی وین کو لیکر  نگلہ اسلام کے بچوں کو چھوڑنے کے لئے چل دئے ۔
(دراصل یہ سب کچھ خدا کا فیصلہ تھا )
 آپ کی وین جب بھنیڑا پہونچی اور آپ نے پولس چوکی کو پار کر دیا ۔
چونکہ آگے چل کر چند قدم کے فاصلہ پر آپ کو ایک بچہ اتارنا تھا اس لئے آپ نے وین کی رفتا ر بہت ہلکی کر لی ۔
اب اچانک کرتپور کی طرف سے کھاد سے بھرا ہوا ایک ٹرک دکھائی دیا جو ہلتا جھلتا ہوا ایک خطرناک شکل اختیا ر کئے ہوئے تھا
 جب اسکول کی وین اور اس ٹرک کے درمیا ن تقریباً دس یا پندرہ قدم کا فاصلہ رہ گیا تو اس ٹرک کا دہنی طرف والا اگلا پہیا پھٹ گیا اور ٹرک مکمل طریقے سے وین کی طرف آنے لگا ۔ٹرک کی یہ حالت دیکھ کر ٹر ک ڈرائیور کھڑکی کھول کر کود بھاگا ۔
شعیب بھائی کہتے ہیں کہ اگر میں چاہتا تو کھڑکی کھول کر میں بھی نکل جاتا۔ مگر میں تنہا نہیں تھا ۔میرے ساتھ تو معصوم سے بچے تھے ۔
مجھ سے جتنا ہو سکا میں نے کیا 
اور اپنے بائیں یاتھ سے بچوں (محمد رافع اور عمرفاروق ) کو کھڑکی کی طرف سے باہر نکالنے  کی کوشش کرنے لگا ۔
مگر ہا ئے افسوس اس طرف والی کھڑکی بند تھی میری حسرت میرے دل میں ہی رہ گئ۔
 اتنے میں وہ ٹرک ہمار ی گاڑی سے آکر ٹکرا گیا ۔بتایا جاتا ہے کہ اس دن وین میں بارہ بچے اور آشا آنٹی  سوار تھیں۔
 محمد رافع اور عمر فاروق شعیب بھائی کے پاس آگے بیٹھے ہوئے تھے ۔جو شدید طور پر زخمی ہو گئے۔
 اور شعیب بھائی کا داہنا پیر پوری طرح سے لہو لوہان ہو گیا۔ وین میں پیچھے کی طرف آشاآنٹی ،محمد رافع کی بہن عفاف قدسی اور دیگر بچے موجود تھے ۔
جن میں آشا آنٹی اور را فع کی بہن شدیدی طور پر زخمی ہو گئیں۔ 
ان کے علاوہ زخمی ہونے والوں میں زوبیہ ناز، انشا ء ناز ،محمد فیض وغیرہ  یہ وہ بچے ہیں جن سے میں خود ملا ہوں ۔
حادثہ کے بعد زخمی ہونے والوں کو ہسپتال لے جایا گیا ۔
جن میں محمد رافع نے کرتپور پہنونچنے سے پہلے ہی راستے میں اللہُ اکبر کہتے ہوئے اپنے آپ کو اللہ کے حضور پیش کر دیا ۔
باقی زخمیوں کو بجنور، اسکے بعد مظفر نگر اور وہاں سے مایو س ہو جانے کے بعد میرٹھ آنند ہسپتا ل میں بھرتی کرایا گیا ۔
 اگلے دن ایک مارچ کو صبح تقریباً دس بجے عمر فاروق نے اپنی زندگی کے آخری سانسو ں کو پورا کرنے کے بعد ہم سب کو داغ مفارقت دے دیا ۔
شعیب بھائی گاڑی ڈرائیور کا وہ پیر جو حادثہ کے بعد پوری طرح سے زخمی ہو چکا تھا اسکو ڈاکٹروں نے گھٹنے کے اوپر سے کا ٹ دیا ۔
آشا آنٹی کو تقریباً تین دن بجنور شری ہسپتال میں رکھا گیا ان کا چہرا بہت زخمی تھا ۔ 
اب الحمدللہ  وہ اپنے گھر زیرِ علاج ہیں۔
            ۲۸ فروری کا وہ دن ہمار ی زندگی کا ایک یا د گار دن بن گیا ۔
جس نے مجھے ان اوراق کو زیرِ قلم لانے پر مجبور کر دیا ۔
میں اللہ کی با رگاہ عالیہ میں عاجزی کے ساتھ دست سوال دراز کرتا ہوں کہ اللہ میرے مرحومین بھائیوں کی مغفرت فرمائیں جو زخمی ہو گئے ان کو مکمل صحت یابی نصیب فرمائیں  
اور خا ص کر شعیب بھائی کی زندگی کو بہتر سے بہتر حا لت میں تبدیل فرمائیں۔
  آمین یا رب العا لمین

مٹھیوں میں خاک لیکر دوست آئے وقت دفن

اور زندگی بھر کی محبت کا صلہ دینے لگے

Comments