موت کا پیغام پوری دنیا کے نام part-10

﴿حضورﷺکےوصال پرحضر ت بلال ؓ کا رونا﴾



http://www.redhost.in/2017/03/part-10.html


صحابہ کرام نبی ﷺ کے فراق میں رویا کرتے تھے ۔
 چنانچہ سیدنا بلال ‌ؓ کے بارے میں آتا ہے کے جب نبی ﷺ نے پردہ فرمایا ۔
تو انہوں نے دل میں سوچا کہ پہلے تو یہا ں محبوب کا دیدار ہوتا تھا۔ میں مسجد نبوی میں اذان دیتا تھا ۔اب میں اگر محبوب کا دیدار نہیں کر سکوں گا تو میں برداشت نہیں کر سکوں گا۔ 
چنانچہ انہوں نے ملک شام کی طرف ہجرت فرمالی۔ 
ایک دن اچانک رات کو سوئے ہوے تھے کہ نبیﷺ کا دیدار ہوا ۔
تو محبوب نے فرمایا کہ بلال کتنی بے وفائی ہے ۔
اتنا عرصہ گزگیا تم ہماری ملاقات کے لئے بھی نہیں آتے۔ بس اس خواب کے آتے ہی ا ٹھ بیٹھے۔
 اپنی بیوی سے کہاکہ میر ی اونٹنی تیار کرو۔ میں اب مدینہ جا رہاہوں۔ چنانچہ شام سے مدینہ طیبہ کا سفرکیا۔ 
آپ جب مدینہ طیبہ آئے تو نماز کا وقت بھی ہو گیاتھا ۔ صحابہ کرام کی چا ہت تھی کہ ہم نبی ؐ کے زمانے کی اذان سنے۔ محبوب کی یا د تازہ ہو۔ انہوں نے انکار فرما دیا۔
 چنانچہ سیدنا حسن ؓ اور سیدنا حسین ؓ دونو ں شہزادوں نے اپنی تمننا ظاہر کی ۔کہ ہمارا جی چاہتا  ہے  کہ اپنے نانا کے  دور کی اذان سنے۔
 اب شہزادوں کی خواہش ایسی تھی کہ اسکا انکار نہیں کر سکتے تھے۔ 
چنانچہ کہنے لگے اچھا میں اذان دیتاہوں۔ بلال ؓ نے اذان دینی شروع کی۔
 اب اچانک جب مدینہ میں صحابہ نے بلال کی آواز سنی جس آواز کو وہ دور ِ نبی میں سنا کرتے تھے تو ان کے دل میں نبیﷺ کی یا د تازہ ہو گئی ۔
صحابہ کرام تو مرغ نیم بسمل کی طرح رونےلگے اور ایک آواز بلند ہوئی۔
حدیث پا ک کا مفہوم ہے کہ مدینہ کی عورتیں بھی اپنے سروں پر چادر یں رکھ کر مسجد نبوی کی طرف بھاگیں ۔
 اور اس وقت ایک عجیب سی کیفیت پیداہو گئی کہ عورتیں بھی رو رہی تھیں، مرد بھی رو رہے تھے ،ایک چھوٹے بچے نے جو ماں کے کاندھے پر بیٹھا تھا۔ حضرت بلال کو دیکھا تو اپنی امی سے پوچھنے لگا کہ امی بلال تو اتنے عرصہ کے بعد واپس آ گئے ۔تم بتاؤ کے نبیﷺ کب واپس آئینگے ؟

کہتے ہیں کہ حضر ت بلال اشھد ان محمد الرسول اللہ پر پہونچے تو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے۔ نبی ﷺ کی محبت میں بے قرار ہو کر نیچے گر گئے ۔ 

Comments