موت کا پیغام پوری دنیا کے نام part-5

مو ت مؤمن کے لئے تحفہ ہے

http://www.redhost.in/2017/03/blog-post.html
ان تمام باتوں کے با وجود  اگر ہم غو رو فکر سے کا م لیں تو معلوم ہو جائیگا  کہ مو ت اللہ تبارک وتعالیٰ کے احسانات میں سے ہے۔ 

اللہ نے مو ت کو احسانات میں شمار کرایا ہے ۔
چنانچہ فرمایا ۔ 
 ﴿کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتاً فاحیا کم ثمّ یمیتکم ثم یحیکم ثم الیہ ترجعون﴾۔ 
ترجمہ : تم کیسے اللہ کا انکا ر کر سکتے ہو تم عدم میں تھے ۔تمہارا وجود نہیں تھا۔اسنے تم کو زندگی دی ۔پھر وہ موت دیگا ۔پھر زندہ کرےگا۔  پھر تم اسکے دربار میں لوٹائے جاؤگے ۔

معلوم ہوا کہ مو ت اللہ  تبارک وتعالیٰ کا ایک احسان ہے۔
 اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے جنت کی نعمتیں رکھیں ہیں ۔وہ موت کی منزل سے گزنے کے بعد ہی ملے گیں۔ اس لئے صوفیاء کا مقولہ  ہے.  الموت جسر یوصل الحبیب الی الحبیب
یعنی موت ایک پل ہے کہ اس سے گزر کر ایک محبوب دوسرے محبوب کے پاس پہنچ جاتا ہے ۔
اللہ کا دیدار ،آخرت کی لا زوال نعمتیں مو ت کے بعد ہی تو انسان کو حاصل ہونگی ۔کو ن ہے جو اللہ کا دیدار نہ چاہتا ہو ۔
کفارو مشرکین موت سے بھاگتے ہیں ۔اور موت کو سب سے بڑی مصیبت سمجھتے ہیں ۔ لیکن بندہ مؤمن کے لئے موت کسی تحفہ سے کم نہیں کہ اسکی روح محبوب  حقیقی کی ملاقات کے لئے ہمیشہ تڑپتی رہتی ہے ۔
اور یہ موقع موت کے بعد ہی میسر آ سکتا ہے۔ اسی  لئے مؤمن موت کو اپنے لئے تحفہ سمجھتا ہے  ۔
( چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔)
 عن عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہ قال قال رسول اللہﷺ تحفۃ المؤمن الموت ۔ (بیہقی)
 رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن کا تحفہ موت ہے ۔

Comments