مو ت سے چھٹکارا نہیں
ایک
لڑکا ہوش و حواش والا اپنی ماں سے پوچھنے لگا کہ اماں جان میرے دادا کہاں ہے ؟
انہوں کہا کہ وہ مر
گئے۔ پھر پوچھا کہ دادی کہاں ہے ؟
جواب دیا کہ وہ بھی مر گئی ہیں ۔
پھر پوچھا کہ میرے والد کہاں ہے؟ کہنے لگی کہ
وہ بھی مر گئے۔
اس طرح دیگر اعزہ واقرباء اور رشتہ داروں کے بارے میں اسنے پوچھا
تو جواب یہی ملا کہ وہ مر گئے۔
اب وہ ہوش و حواش والا لڑکا کہتا ہے کہ اس گھرمیں
تو موت ہی موت آتی ہے لہذٰ بھاگو ورنہ ہم بھی مر جائنگے۔
بہر حال یہ لڑکا گھر سے
بھا گ نکلا ۔
راستے میں کچھ بچے کھیلتے ہوئے ملے جو گر دوغبار اڑا رہے تھے۔ یہ لڑکا
راستہ کترا کر چلنے لگا تاکہ گر دوغبار کپڑوں پر نہ پڑے۔
اسکو راستے سے ہٹتے ہوئے
دیکھ کر ایک بچہ بولا کہ میاں مٹی اور
گردو غبارسے بھاگتے ہو۔ اس وقت بھاگ کر کہاں جاؤگے۔
جب تمہیں مو ت آئیگی ۔اور سیکڑوں
من مٹی تمہارے اوپر ڈالی جائے گی۔ یہ لڑکا اور گھبرایا کہ میں موت سے بھاگ رہاتھا یہاں
بھی مو ت ہی سننے میں آئی۔ اب یہ لڑکا جنگل کی طرف روانہ ہوا اور ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں جنگل ہی جنگل تھا۔
کوئی انسان کا نام و نشا ن بھی نہ تھا۔
اتفاق سے سامنے سے ایک ہاتھی نظر آیا ۔یہ
لڑکا کہنے لگا کہ مو ت سےگھبرا کر جنگل آیا تھا ۔
لیکن یہاں تو موت سامنے کھڑی ہے ۔اس
ہاتھی سے بچ کر کہاں جاؤں گا ۔خیر اسنے بھاگنا شروع کیا ۔ہاتھی نے پیچھا کیا ۔کچھ
دیر کے بعد اسے ایک کوٹھری نظر آئی جو چارں طرف سے بند تھی۔
جسکا ایک چھوٹا سا
دروازہ تھا ۔اس لڑکے نے سوچا کہ اس کوٹھری میں داخل ہو جاؤں ۔کہ چھو ٹا سا دروازہ
ہے اس میں ہاتھی نہیں گھس پائے گا ۔بہر حا ل یہ لڑکا اس کوٹھری میں دا خل ہو گیا۔
دا خل ہونے کے بعد کیا دیکھتا ہے کہ ایک کونے میں
سانپ منھ کھولے کھڑا ہے۔اور دوسرے کونے میں ایک بڑا بچھو ہے۔ اتنے میں ہا
تھی بھی دروازہ پر آگیا۔
اور سونڈ کو دروازہ کی طرف بڑھانے لگا۔ اب جدھر دیکھتا ہے مو ت ہی موت ہے ۔
آ خر کا ر یہ لڑکا
چلا کر سجدے میں گر گیا۔ اور کہنے لگا کہ اے اللہ میری جا ن تو تیرے ہی قبضہ میں
ہے ۔چا ہے زندہ رکھ۔ چا ہے مار دے ۔اے
میرے ما لک مدد فرما ۔غیب سے آواز آئی اے نادان بندے ۔تونے مجھ سے مدد مانگی ہے ۔اب
دیکھ میں تیری جان کیسے بچاتا ہوں۔
چنانچہ سانپ آہستہ آہستہ چلا اور دروازہ سے با
ہر ہو گیا ۔بچھو نے بھی دروازہ کی طر ف قدم بڑھا یا ۔
اور ہاتھی کی سونڈمیں جا کر
ڈنک ما ردیا۔ ہاتھی زور سے چلایا اور وہیں ڈھیر ہو گیا ۔
لڑکے کو جب اطمینا ن ہو
گیا کہ ہاتھی مر گیا تو وہ با ہر نکلا اور کہنے لگا کہ یقیناً مو ت سے بچنے کی
کوئی صورت نہیں ۔
﴿کل نفسٍ ذا ئقۃ الموت﴾ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔

Comments
Post a Comment